ننھا سا “ازلان”
🌧️ ازلان صرف سات برس کا تھا… مگر اس کی آنکھوں میں برسوں کی تھکن تھی۔ وہ روز صبح اپنی ماں کے ساتھ سڑک کے کنارے رنگ برنگے غبارے بیچتا تھا۔ جب اسکول کی بس گزرتی تو وہ خاموشی سے بچوں کو دیکھتا… ان کے صاف یونیفارم، بستے، ہنسی… اور پھر اپنے پھٹے ہوئے کپڑوں کی طرف نظر جھکا لیتا۔ ایک دن اس نے ماں سے آہستہ سے پوچھا: “امی… کیا میں بھی کبھی اسکول جاؤں گا؟” ماں نے مسکرا کر آنسو چھپا لیے۔ “ان شاء اللہ بیٹا… ضرور جاؤ گے…” مگر وہ “ان شاء اللہ” صرف دل کی تسلی تھی، حقیقت نہیں۔ بارش کی ایک سرد شام تھی۔ سڑک کیچڑ سے بھر گئی۔ غبارے پانی میں بھیگ کر پھٹ گئے۔ ازلان کے ننھے ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر وہ ماں کو تسلی دے رہا تھا۔ “امی فکر نہ کریں… میں بڑا ہو کر آپ کے لیے دکان لوں گا… بڑی سی… جہاں بارش اندر نہ آئے…” چند ہی دن بعد تیز بخار نے اسے کمزور کر دیا۔ دوائی کے پیسے نہ تھے۔ محلے والوں نے کوشش کی، مگر بھوک اور سردی نے اس ننھے جسم کو ہرا دیا۔ آخری رات اس نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑا اور آہستہ سے کہا: “امی… جب میں بڑا ہو جاؤں گا نا… تو آپ کو کبھی رُلنے نہیں دوں گا…” مگر وہ بڑا ہونے سے پہلے ہی چلا گیا۔ آج بھی وہ...